وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم

وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم

شکست زسیت کا دل پر اثر کیا
مگر ہے راہ و رسم دوستاں ختم

وہاں سے میرا افسانہ چلے گا
جہاں ہو گی تمہاری داستاں ختم

الجھتا جا زمانے کی نظر سے
کبھی تو ہو گا دور امتحاں ختم

اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقیؔ
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی