ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم

ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
رہتے ہیں ترے خیال میں ہم

فروا ہے کوئی خیال جیسے
یوں مست ہیں اپنے حال میں ہم

کھو بیٹھے ہیں اعتبار اپنا
آ آ کے جہاں کی چال میں ہم

آئے نہ ادھر غم زمانہ
بیٹھے ہیں ترے خیال میں ہم

دیتے ہیں کوئی جواب باقیؔ
کھوئے ہیں ابھی سوال میں ہم

باقی صدیقی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں