وفا کی راہ میں ایسے کمال کرتی ہوں

وفا کی راہ میں ایسے کمال کرتی ہوں

نہ کوئی شکوہ نہ کوئی سوال کرتی ہوں

میں روز تاروں سے دامن سجاتی ہوں اپنا

بہت سلیقے سے اپنا خیال کرتی ہوں

یہ کب تلک یوں ہی نفرت کا کھیل کھیلو گے

میں لیڈروں سے یہی اک سوال کرتی ہوں

غموں کو اپنی میں غزلوں میں ڈھالتی ہوں بس

یہ دنیا والے کہے کہ کمال کرتی ہوں

اداسیوں سے صدا رکھ کے فاصلہ جیوتیؔ

میں ایسے زیست حسیں پر جمال کرتی ہوں

جیوتی آزاد کھتری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان