وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ

وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ

کہاں میں کہاں یہ مقام، اللہ اللہ

یہ رُوئے درخشاں، یہ زلفوں کے سائے

یہ ہنگامۂ صبح و شام، اللہ اللہ

یہ جلووں کی تابانیوں کا تسلسل

یہ ذوقِ نظر کا دوام، اللہ اللہ

وہ سہما ہوا آنسوؤں کا تلاطُم

وہ آبِ رواں بے خرام، اللہ اللہ

شبِ وصل کی ساعتیں مختصر سی

تمناؤں کا اژدحام، اللہ اللہ

وہ ضبطِ سُخن میں لبوں کی خموشی

نظر کا وہ لطفِ کلام اللہ اللہ

غلام مصطفٰی تبسم

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی