وہ جن کے نقش قدم

وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیں

اب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیں

کہیں نہیں ہے منارہ نہ منبر و محراب

محل سرا سے حرم دیکھنے میں آتے ہیں

طواف کوئے سخن ختم ہی نہیں ہوتا

کوئی نہیں ہے تو ہم دیکھنے میں آتے ہیں

اٹے ہوئے ہیں غبار شکستگی میں سلیمؔ

جو آئینے پس غم دیکھنے میں آتے ہیں

 

سلیم کوثر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا