از روۓ زمیں اور نہ افلاک سے نکلے
وحشت کا خدا سینۂ صد چاک سے نکلے
دیمک زدہ امکانِ شبِ وصل ، کبھی سن
وہ بین جو سِلوٹ بھری پوشاک سے نکلے
اک دکھ کہ جو قابض ہے رگ و پے پہ ابھی تک
ممکن ہی نہیں دیدۂ نمناک ںسے نکلے
یونہی نہیں ہوتے مرے تہہ دار یہ مصرعے
اس زلفِ گرہ گیر کے پیچاک سے نکلے
کیسے یہ ملائک مجھے سجدہ نہیں کرتے؟؟
اسرارِ خودی تک تو مری خاک سے نکلے
وہ لوگ ترے ہجر کے قابل ہی نہیں تھے
جو بارگہہِ وعدۂ سفّاک سے نکلے
جیسے کہ ترے ہجر میں اعصاب کا منظر
ریشے کبھی دیکھے ہیں جو مسواک سے نکلے
ہو جائے کرم دست ہنر پر مرے خالق
خواہش ہے کہ شہکار مرے چاک سے نکلے
پھر مجھ کو یقیں ہو کہ خدا ساتھ ہے میرے
اک روز ترا خط جو مری ڈاک سے نکلے
مقتل میں سہولت سے ترے نام پہ آئے
کایٔر سے جو لگتے تھے وہ بے باک سے نکلے
ہم دیکھ رہے ہیں سرِ دامانِ تَحیُّر
اب سیلِ بلا لشکرِ خاشاک سے نکلے
خوشبو زدہ بحران محبت کی کمائی
کچھ پھول گلابی مری املاک سے نکلے
تو آ کے کبھی دیکھ جو حالت ہے ہماری
جس طرح سمندر یدِ پیراک سے نکلے
پھر دیکھنے والی ہو نکییرین کی حالت
جب اپنا تعلق شہہ لولاک سے نکلے
بند آنکھ سے دیدار میں رکھتے ہیں مہارت
احمق سے جو دکھتے تھے وہ چالاک سے نکلے
اک حکم ہوا وقتِ جدائی ، مرے اظہر!!
یہ دکھ نہ کبھی ورطۂ ادراک ںسے نکلے
اظہر عباس خان