یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا جائے

یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا جائے
لَمس کو کارِ ملامت نہیں سمجھا جائے

اب مری آنکھ ترے خواب سے کتراتی ہے
اب مجھے اہلِ امانت نہیں سمجھا جائے

تیرے ہوتے ہوئے ہم سانس جو لے لیتے ہیں
اس کو درپردہ بغاوت نہیں سمجھا جائے

یہ تو اس حسن کی مرضی ہے کہ جس جس پہ کھُلے
اس کو آنکھوں کی مہارت نہیں سمجھا جائے

جب بھی چاہیں ترے ہجراں سے کنارہ کر لیں
سن، اِسے جوشِ خطابت نہیں سمجھا جائے

وہ تو گھونگھٹ میں کسی اور ہی دکھ سے چپ ہے
دیکھئے چپ کو اجازت نہیں سمجھا جائے

مجھ سے کائر کبھی اظہار نہیں کر سکتے
یہ طبیعت كی متانت نہیں سمجھا جائے

عجز کے اپنے تکبر میں ملوَّث سجدے
لاکھ ہو جائیں، عبادت نہیں سمجھا جائے

بے خودی ضد پہ اڑی تھی سو بغلگیر ہوئے
اس کو ہرگز بھی خیانت نہیں سمجھا جائے

ہم جو حیران ہیں منصف کی طرفداری پر
اس کو توہینِ عدالت نہیں سمجھا جائے

بعض اوقات یہ مرنے سے بچا لیتی ہے
شعر گوئی کو حماقت نہیں سمجھا جائے

دل کے دالان میں پڑتی ہوئی سانسوں کی دھمال
اس کو جینے کی بشارت نہیں سمجھا جائے

دشت کے مردِ مجاہد کا یہ فتویٰ سن لیں
ہجر کو کارِ خجالت نہیں سمجھا جائے

عشق دل کھول کے ، آتا ہے سمجھ میں اظہر
اَز روئے فہم و فراست، نہیں سمجھا جائے

اظہر عباس خان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی