اسکے پھولوں کو سنبھالے رکھنا

اسکے پھولوں کو سنبھالے رکھنا
غم کی راتوں میں اجالے رکھنا

بے وقوفوں سی ہے حرکت یہ تو
سانپ پہلو میں ہی پالے رکھنا

میرے نزدیک محبت یہ ہے
دل بے دردوں کے حوالے رکھنا

تیری عادت ہے یہ تُو کر پوری
ایک ہی بات اچھالے رکھنا

خواہشِ لمس ہی پوری نہ ہوئی
اسکا بس کام ہے ٹالے رکھنا

سمجھے کیسے کوئی دکھ مفلسی کا
صبح کے شام نوالے رکھنا

دینے والا ہے وہ دستک سو زمل
دل کے دروازے پہ تالے رکھنا

 

ناصر زملؔ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی