اُسے بھی ایسے ہی دل سے نکال پھینکا ہے

اُسے بھی ایسے ہی دل سے نکال پھینکا ہے
کہ جیسے کھینچ کے مکھن سے بال پھینکا ہے

اُسے بھی ہاتھ سے چھوڑا ہے اس طرح جیسے
کسی نے کھود کے قبریں کُدال پھینکا ہے

میں رزق کی نہیں سائے کی جستجو میں ہوں
سو پانی میں نہیں صحرا میں جال پھینکا ہے

ملا کے زہر میں عرقِ گلاب رکھا ہے
عجب ہوں اتنا کہ ماضی میں حال پھینکا ہے

مجھے یقین ہے اُس چال باز نے سکہ
مٹا کے دونوں طرف سے اچھال پھینکا ہے

میں دشمنوں کو نشانے سکھایا کرتا تھا
مرے ہنر ہی نے مجھ پر زوال پھینکا ہے

احمد آشنا

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان