کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟

کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟
اور اُس الاؤ میں "مجھ کو بچاؤ ” کی آواز

تمھارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا
تم ایک سنگ ، میں دل کے کٹاؤ کی آواز

پھر ایک دم مری شہ رگ میں ٹِیس اٹھنے لگی
کہ جب سنی تھی عدو کے پڑاؤ کی آواز

مرے حریف کی پوروں میں دفن ہوتی گئی
گلا دباتے، گلے کے دباؤ کی آواز

وہ ایک لاش سمندر سے جب نکالی گئی
تو آئی لاش کے کانوں سے ناؤ کی آواز

جلے مکاں کو مرمت کیا گیا ہے مگر
ابھی بھی آتی ہے گھر سے ” بچاؤ ” کی آواز

احمد آشنا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی