انزائٹی (Anxiety) ایک ذہنی اور جذباتی کیفیت ہے جس میں انسان کو کسی ممکنہ خطرے، پریشانی یا غیر یقینی صورتِ حال کے بارے میں حد سے زیادہ خوف، گھبراہٹ اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، بے سکونی اور منفی خیالات کا پیدا ہونا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
انزائٹی کا ایک پہلو خود جبری بھی ہے، جس میں انسان مسلسل اپنے آپ پر ذہنی دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ انزائٹی اور خود جبری دونوں ذہنی صحت سے متعلق مسائل ہیں جو انسان کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انزائٹی ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کو حد سے زیادہ فکر، خوف یا بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان بغیر کسی واضح وجہ کے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور ذہن ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی میں الجھا رہتا ہے۔
اس کے برعکس خود جبری ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کے ذہن میں بار بار غیر ضروری خیالات یا وسوسے آتے ہیں۔ ان خیالات کی وجہ سے انسان بعض کام بار بار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جیسے بار بار ہاتھ دھونا، دروازہ چیک کرنا یا چیزوں کو ایک خاص ترتیب سے رکھنا۔ اس عمل سے وقتی سکون تو ملتا ہے، لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا اور بعض اوقات یہی کیفیت سوشل انزائٹی کو بھی جنم دیتی ہے۔
خود جبری (Self-Imposed Pressure) اور سوشل انزائٹی (Social Anxiety) دونوں ذہنی اور جذباتی مسائل ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ خود جبری کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، مثلاً دوسروں کو خوش کرنے کی مسلسل کوشش کرنا یا ہر کام میں مکمل پرفیکشن کی توقع رکھنا۔ جب یہ دباؤ بڑھ جاتا ہے تو یہ سوشل انزائٹی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
سوشل انزائٹی کی حالت میں فرد کو معاشرتی تعاملات میں شدید بے چینی اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ لوگ اس کی باتوں یا اعمال کے بارے میں منفی رائے قائم کر رہے ہیں، یا وہ کسی بھی معاشرتی موقع پر غلطی کرنے سے خوفزدہ رہتا ہے۔
سوشل انزائٹی نے اُردو ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کئی اُردو شعرا کی شخصیت اور شاعری میں داخلی اضطراب، تنہائی، بے چینی اور سماجی فاصلے کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں میراجی، ن۔م۔ راشد، شکیب جلالی، شبیر شاید، سارہ شگفتہ اور جون ایلیا جیسے شعرا کے نام قابلِ ذکر ہیں، جن کی شاعری میں داخلی کرب، وجودی بے چینی اور معاشرتی بیگانگی کی جھلک واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
میراجی نے اپنی شاعری میں انسان کے اندرونی خوف، تنہائی اور معاشرے سے اجنبیت جیسے موضوعات کو خاص اہمیت دی۔ اگرچہ ان کے عہد میں “سوشل انزائٹی” کی اصطلاح عام نہیں تھی، لیکن ان کی شاعری میں ایسی کیفیات نمایاں طور پر ملتی ہیں جنہیں آج ہم سماجی جھجک یا سوشل انزائٹی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ میراجی کی نظموں اور اشعار میں ایک ایسا انسان دکھائی دیتا ہے جو معاشرے میں رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا اور بےگانہ محسوس کرتا ہے۔ وہ ہجوم میں بھی سکون نہیں پاتا اور اکثر اپنے اندر کے احساسات میں گم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا ایک شعر اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا
اس شعر میں انسان کی ذہنی بھٹکاہٹ اور اجنبیت کا احساس نمایاں ہے گویا وہ معاشرے میں موجود ہونے کے باوجود اپنے آپ اور دوسروں کے درمیان فاصلے کو محسوس کرتا ہے۔
اسی طرح میراجی کی شاعری میں تنہائی اور اندرونی کشمکش کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے خوف اور الجھن کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک اور نظم میں انسان کی یہی بے چینی اور ذہنی اضطراب جھلکتا ہے:
میں جو بولوں تو زمانہ مرے لفظوں کو سنے
اور میں چپ رہوں تو دل کی صدا مجھ سے نہ چھپے
میراجی شور کی شدت سے گھبراتا ہے اور کبھی اپنے ہی خیالات کے شور سے پریشان رہتا ہے۔ یہی کیفیت سوشل انزائٹی میں بھی دیکھی جاتی ہے جہاں انسان دوسروں کی موجودگی میں غیر معمولی جھجک اور بے چینی محسوس کرتا ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ میراجی کی شاعری صرف جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی گہری ترجمانی بھی کرتی ہے۔ ان کی نظموں اور اشعار میں تنہائی، خوف اور سماجی اجنبیت جیسے احساسات اس انداز سے بیان ہوئے ہیں کہ آج کے دور میں بھی وہ قاری کے دل کو متاثر کرتے ہیں اور جدید نفسیاتی اصطلاحات سے ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ن م راشد اردو ادب کے اُن ممتاز شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے جدید نظم کو ایک نئی فکری اور فنی جہت عطا کی۔ ان کی شاعری میں فرد کی تنہائی، معاشرتی بیگانگی اور داخلی کشمکش جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ اگرچہ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ باقاعدہ طور پر سوشل انزائٹی (سماجی گھبراہٹ) کا شکار تھے، تاہم ان کی شاعری میں ایسی کیفیات ضرور ملتی ہیں جو اس نفسیاتی کیفیت سے مماثلت رکھتی ہیں۔
راشد کی نظموں میں ہمیں بارہا ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو معاشرے سے کٹا ہوا، اپنے اندر سمٹا ہوا اور اپنی ذات کے پیچیدہ سوالات میں الجھا ہوا ہے۔ یہ احساسِ تنہائی ان کی شاعری کا ایک بنیادی وصف ہے۔
راشد نے روایتی سماجی اقدار اور رسوم کو کھل کر چیلنج کیا۔ ان کی نظموں میں ایک طرح کی بغاوت پائی جاتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ خود کو عام معاشرتی سانچوں میں فٹ نہیں پاتے تھے۔ یہ کیفیت بعض اوقات ان افراد میں بھی دیکھی جاتی ہے جو سماجی دباؤ یا عدم قبولیت کے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔
ان کی مشہور نظموں جیسے "زندگی سے ڈرتے ہو” میں انسانی خوف بے یقینی اور اندرونی اضطراب کی جھلک نمایاں ہے۔ نظم سے چند اشعار ملاحظہ ہو:
زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!
زندگی سے ڈرتے ہو؟
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
”ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے ”بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
ہاں ابھی تو تم بھی ہو
ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
تم ابھی سے ڈرتے ہو
اسی طرح "حسن کوزہ گر” میں انسان کی باطنی دنیا اور اس کے جذباتی تضادات کو گہرائی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ تمام عناصر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ راشد انسانی نفسیات خصوصاً اندرونی بے چینی اور سماجی فاصلے کو بخوبی سمجھتے تھے۔
مزید برآں راشد کی شاعری میں خارجی دنیا کے مقابلے میں داخلی دنیا کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ وہ انسان کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے ان احساسات کو بیان کرتے ہیں جو عام طور پر زبان پر نہیں آتے۔ یہی خصوصیت ان کی شاعری کو منفرد بناتی ہے اور قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔
عصر حاضر میں بھی کئی ایک ایسے شعرا ہیں جو سوش انزائٹی کے شکار ہیں جن میں جون ایلیا، احمد فراز ، جاوید زیب ،امجد اسلام امجد ،فروغ فرخزا ،ناصر کاظمی ، شبلی نعمانی حفیظ جالندھری ، ڈاکٹر فہمیدہ ریاض کلیم امین
نوشین اختر ، شکیل شوق ، شبنم شاہ، رامش سہیل، ارشد صدیقی ، پروفیسر سہیل احمد اور دیگر شعرا شامل ہیں۔
مدثر عباس
16 مارچ 2026ء