انکی آنکھوں میں پا لیا خود کو

انکی آنکھوں میں پا لیا خود کو
یعنی اتنا اٹها لیا خود کو

مجھ کو ہارون کی ضرورت تھی
میں نے موسیٰ بنا لیا خود کو

عشق میرا قبول ہو جائے
زیر_خنجر لٹا لیا خود کو

جب بهی تخلیق پر ہوا حیراں
نغمہء کن سنا لیا خود کو

معرفت کے سفر پہ چل نکلا
اپنی منزل بنا لیا خود کو

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی