ابتداء اور انتہا تها میں

ابتداء اور انتہا تها میں
اک کہانی تها اور کیا تھا میں

در حقیقت نصیب تها میرا
جسکو محنت سمجھ رہا تھا میں

اس نے پوچھا تھا کون ہے مجنوں
میں نے چپکے سے کہہ دیا تھا، میں

مار کر مجھ کو پهر اٹهانا ہے
اپنے مالک کا مشغلہ تھا میں

اک فسوں عاشقی کا طاری تها
جان دینے پہ آ گیا تها میں

ہائے قسمت جنون کے معنی
ہوش والوں سے پوچھتا تها میں

میری قسمت پہ رو دیا پانی
مرحلہ وار ڈوبتا تھا میں

آپ محوِ دهمال تهے کل شب
آپ کے دل میں آگیا تھا میں؟

ڈاکٹر اسد نقوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا