ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا

ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
اے غم ہستی کوئی غم کھائیں کیا

شورِ نغمہ اس طرف آتا نہیں
رنگِ محفل بن کے ہم اڑ جائیں کیا

بے نیازی سے ہے قائم شان حسن
ہم انہیں یاد آئیں پر یاد ئیں کیا

جل کے بجھنے کا تو باقیؔ غم نہیں
ہم مگر دنیا کو منہ دکھلائیں کیا

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان