تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا

تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا
آگے کرے اک بندہ ناچیز رقم کیا

تو خالق کونین ہے اور حاصل کونین
ہے جس پہ نظر تیری اسے کوئی ہو غم کیا

تو اپنے گنہ گار کو توفیق عمل دے
ہوتا ہے زباں سے سرتسلیم بھی خم کیا

یہ رنگ غم زیست، یہ انداز غم جاں
دنیا کی تمنا میں نکل جائے گا دم کیا

اک سجدہ کیا میں نے فقط شعر کی صورت
ورنہ ہے تخیل مرا کیا؟ میرا قلم کیا

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے