اداسی ، نیم تاریکی ، ہوا تازہ نہیں ہے

اداسی ، نیم تاریکی ، ہوا تازہ نہیں ہے
کہ اس زنداں میں کھڑکی اور دروازہ نہیں ہے

یہ آبِ تُند رَو پر جُھولتے پُل کی مسافت
کنارے پر کھڑے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے

تواتر سے چلی آتی ہے ہر مشکل ، تو کیا یہ
سہولت مانگتے رہنے کا خمیازہ نہیں ہے

بہاراں میں کِھلا ہے زردئ رخسار کا گُل
میسر اِس کو تیری دید کا غازہ نہیں ہے

مرے دل کا خلا یکسر مکمل ہو چکا اب
یہاں خوابوں کے بھی ٹُوٹے کا آوازہ نہیں ہے

صائمہ آفتاب

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے