اداس شاموں بجھے دریچوں میں لوٹ آیا

اداس شاموں بجھے دریچوں میں لوٹ آیا

بچھڑ کے اس سے میں اپنی گلیوں میں لوٹ آیا

چمکتی سڑکوں پہ کوئی میرا نہیں تھا سو میں

ملول پیڑوں اجاڑ رستوں میں لوٹ آیا

خزاں کے آغاز میں یہ اچھا ہوا کہ میں بھی

خود اپنے جیسے فسردہ لوگوں میں لوٹ آیا

حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہہ کر

میں اپنے گھر کے اندھیرے کمروں میں لوٹ آیا

میں کھل کے رویا نہیں تھا پچھلے کئی برس سے

حسنؔ وہ سیلاب پھر سے آنکھوں میں لوٹ آیا

حسن عباسی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی