خموش رہ کر پکارتی ہے

خموش رہ کر پکارتی ہے

وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے

ہے چاندنی سا مزاج اس کا

سمندروں کو ابھارتی ہے

میں بادلوں میں گھرا جزیرہ

وہ مجھ میں ساون گزارتی ہے

کہ جیسے میں اس کو چاہتا ہوں

کچھ ایسے خود کو سنوارتی ہے

خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر

وہ بارشوں کو اتارتی ہے

حسن عباسی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا