تمہارے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں

تمہارے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں
اور اک ہم ہیں جو بیٹھے رو رہے ہیں

ہزاروں خواہشیں ہم نے گنوا دیں
بس اِک عزت بچی وہ کھو رہے ہیں

تجھی کو دیکھنے میں ہیں مگن ہم
بہت شدت سے تیرے ہو رہے ہیں

وہ سارے مر گئے جینا تھا جن کو
جو باقی بچ گئے وہ سو رہے ہیں

یہ منصب ، مال و دولت ہائے دنیا
انہی کا بار مردے ڈھو رہے ہیں

نگاہِ شوق سے دھاروں کی مانند
تری یادوں سے آنکھیں دھو رہے ہیں

حسن کو ابنِ ساقی کرنے والے
مرے آنسو تجھے ہی رو رہے ہیں

حسن ابن ساقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی