تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا

تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا

میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا

جنہوں نے مل کے مرے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں
انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا

اس ایک بات میں کتنی بڑی اذیت تھی
جب اس نے اتنا کہا: سوچ کر بتاؤں گا

اسی سبب سے میں لوگوں سے اب نہیں ملتا
صغیر اس نے کہا تھا گلے لگاؤں گا

صغیر احمد صغیر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

2 تبصرے

ڈاکٹر صغیر احمد صغیر دسمبر 3, 2020 - 9:58 شام
بہت شکریہ جناب. ادب کی ترویج و ترقی پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں.
ارشد القادری جولائی 8, 2025 - 5:07 شام
ممنوم
Add Comment