تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے

تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے
چلا گیا وہ اداسی کے نام کر کے مجھے

وہ شامِ غم وہ ترے ہجرِ نا تمام کی شام
وہ شام ڈھل گئی آخر سلام کر کے مجھے

چلے گی کس پہ یہ آخر برہنہ دھار مری
وہ چھپ گیا ہے کہاں بے نیام کر کے مجھے

گھٹا رہا ہے مرے دام جس طرح وہ غلام
خرید لے گا کسی دن غلام کر کے مجھے

یہ کس نے میرے خیالات کی گرہ کھولی
سوار کون ہوا بے لگام کر کے مجھے

بشریٰ شہزادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی