تو جہاں رہے وہاں ہر قدم

تو جہاں رہے وہاں ہر قدم کوئی روشنی ترے ساتھ ہو

ترے ساتھ ہوں سبھی رونقیں، نہ کوئی کمی ترے ساتھ ہو

ترے راستوں کے جو خار ہیں انہیں گل ستان بناۓ رب

کبھی تتلیاں، کبھی خوشبوئیں، کبھی چاندنی ترے ساتھ ہو

جسے تو عزیز رکھے سدا وہی شخص تجھ سے وفا کرے،

کبھی دلبری، کبھی دوستی، جو ہو لازمی، ترے ساتھ ہو

تو یقین رکھ تری سوچ سے کہیں پرکشش تیرا بخت ہے

مری یہ دعا ہے کہ کائنات کی ہر خوشی ترے ساتھ ہو

ترا لفظ لفظ ہے اِک عطا، تری رہبری تو کمال ہے

تری مرشدی مرے ساتھ ہو، مری چاکری ترے ساتھ ہو

شہزین فراز

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی