تو دکھ اٹھا رہا ہے جسے بھول جانے کا

تو دکھ اٹھا رہا ہے جسے بھول جانے کا

پاگل! یہی تو روگ ہے جی کو لگانے کا

تم میں سے میں بھی ہوں، سو مرا فیصلہ بھی ہے

گلزار خرچ کرنے کا صحرا کمانے کا

اے کوہسار و ارض و سما! چاہے کچھ کہو

اب میں نہیں یہ بارِ امانت اٹھانے کا

کچھ رنگ زنگ ہو گئے کچھ عکس بجھ گئے

منظر بدلتا جاتا ہے آئنہ خانے کا

اس چومکھے چراغ کو کتنا خیال ہے

تیرا، حریمِ حرف کا، دل کا، زمانے کا

مالک! بساط بھر تو سخن کر رہا ہوں میں

سو مجھ کو وہم بھی نہیں بے کار جانے کا

کیسا ہے یہ چراغِ رواں کا سفر سعود

تاریکیوں کے بیچ سے رستہ بنانے کا

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے