تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا

تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا
کسی دبیز سے تھیلے میں ڈال کر لے جا

نہِِیں ہے تُو تو بھلا اِن سے مُجھ کو کیا لینا
دِل و دماغ، جِگر، سر نِکال کر لے جا

نہ ہو کہ خوف مِرے حوصلوں کو پست کرے
تُو میری آنکھوں پہ پٹّی سی ڈال کر لے جا

اگرچہ آرزُو کی چربیوں سے چرب نہِیں
پر احتیاط سے دِل کو کھگال کر لے جا

یہ کیا کہا ہے کہ تقدِیر ساتھ دیتی نہِیں؟
نئے سِرے سے کوئی اور چال کر، لے جا

کھرا ہے تُو تو مِری کھوٹ بھی کھری کر دے
مجھے بھی اپنے ہی سانچے میں ڈھال کر لے جا

اگر خلوص سے مجھ کو منانے آیا ہے
نئے سرے سے تعلق بحال کر لے جا

میں وحشتوں کے کسی بحرِ بیکراں میں ہوں
چلا ہوں ڈوبنے مجھ کو اُچھال کر لے جا

غزل رشِید کی اخبار میں تو دے آ تُو
پہن لے کوٹ، یہ اُوپر سے شال کر، لے جا

رشِید حسرتؔ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی