اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے

اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے
ہم کو پیارا ہے، مگر بیچنا ہے

بھوک بچوں کی ہمیں توڑ گئی
شعر کہنے کا ہنر بیچنا ہے

دل تو پہلو میں کبھی تھا ہی نہیں
تم خریدو گے تو سر بیچنا ہے

وہ گرانی ہے کہ اب اپنا وقا
لے کے آنا ہے، ادھر بیچنا ہے

بک گئے چاند ستارے کب کے
اب جو باقی ہے اثر بیچنا ہے

اپنے بیٹے کی کتابیں بھی مجھے
کیا کروں دیدۂِ تر۔ بیچنا ہے

جو مقفّل ہی ملا جب بھی گئے
ایسے مے خانے کا در بیچنا ہے

کچھ نہیں اپنی تمنّا کا لہو
رات اُترے کہ سحر، بیچنا ہے

خوف ایسا ہے مسلط حسرت
دھونس کے مارے یہ ڈر بیچنا ہے

رشِید حسرتؔ

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان