تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا

تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا
بسان جام لیے دیدئہ پرآب پھرا

اثر بن آہ کے وہ منھ ادھر نہ ہوتا تھا
ہوا پھری ہے مگر کچھ کہ آفتاب پھرا

نہ لکھے خط کی نمط ہو گئیں سفید آنکھیں
تجھے بھی عشق ہے قاصد بھلا شتاب پھرا

وہ رشک گنج ہی نایاب تھا بہت ورنہ
خرابہ کون سا جس میں نہ میں خراب پھرا

کسو سے حرف محبت کا فائدہ نہ ہوا
بغل میں میں تو لیے یاں بہت کتاب پھرا

لکھا تو دیکھ کہ قاصد پھرا جو مدت میں
جواب خط کا مرے صاف بے جواب پھرا

کہیں ٹھہرنے کی جا یاں نہ دیکھی میں نے میر
چمن میں عالم امکاں کے جیسے آب پھرا

میر تقی میر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے