ٹھیک سے مسکرا نہیں رہا تھا

ٹھیک سے مسکرا نہیں رہا تھا
کوئی چُھٹی پہ جا نہیں رہا تھا

کھڑکیوں کا بھلا ہو بارش میں
وہ ٹہلنے کو آ نہیں رہا تھا

ایک تہمت تو یہ بھی ہے مجھ پر
میں کسی کا خدا نہیں رہا تھا

تنگ تھا میں مزاج پُرسی سے
زخم کو بھی چھپا نہیں رہا تھا

میرے جوتے پہ تیری مہمانی
مکھیاں تو اڑا نہیں رہا تھا

علی زیرک

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے