تیرے در تک نہیں جانے پاتے

تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے

جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے

تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے

لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے

درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے

غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان