تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے

تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے

سوچ کر آئے تھے ہم کیا کیا مگر
رنگ محفل دیکھ کر چپ ہو گئے

کیا کبھی اس کا بھی آیا ہے خیال
کیوں ترے شوریدہ سر چپ ہو گئے

کہہ رہے تھے جانے کیا لوگوں سے وہ
مجھ کو آتا دیکھ کر چپ ہو گئے

میں نہیں گویا کسی کا ترجمان
ہمنوا یوں وقت پر چپ ہو گئے

اک اداسی بزم پر چھا جائے گی
ہم بھی اے باقیؔ اگر چپ ہو گئے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی