ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے

ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے
مرے رت جگوں کو کوئی نام دے

خیالوں کی بے سمتیاں جھیل کر
پرندہ یہ بولا، مجھے دام دے

بنے کاش تجھ سے تعلق مرا
تعلق بھی ایسا جو الزام دے

کسی باغ میں پھول کھلتا نہیں
کسے کوئی ہونٹوں کا انعام دے

ترے رخ کا سورج بھی ایسا نہیں
جو راتوں کے جاگے کو آرام دے

کدھر بھاگتی جا رہی ہے سڑک!
ذرا ٹھیر، سورج تجھے شام دے

چراغوں کو اب طاق ملتا نہیں
وہاں چاند نکلا، اسے بام دے

وہ سب خاص لوگوں کی محفل میں ہیں
انہیں کون فکرِ رہِ عام دے

شہزاد نیر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا