تصویریں بناؤں گا ، سخن کاری کروں گا

تصویریں بناؤں گا ، سخن کاری کروں گا

اے ہجر ترے وصل کی تیاری کروں گا

مصروف تو رہنا ہے جدائی میں کسی طور

بچھڑے ہوئے لوگوں کی عزا داری کروں گا

ٹوٹی ہوئی ٹہنی کے بھی سب زخم ہرے ہیں

اے عشق زدہ ، میں تری غم خواری کروں گا

اچھا تو یہی ہے کہ میں کچھ بھی نہ کہوں دوست

کرنی ہی پڑی بات تو پھر ساری کروں گا

کہہ دوں گا مجھے تم سے محبت ہی نہیں تھی

اک روز میں اپنی بھی دل آزاری کروں گا

سچ یہ ہے کہ پڑتا ہی نہیں چین کسی پل

گر صبر کروں گا تو اداکاری کروں گا

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی