ہر آدمی کا خوشی ہی اگر مقدر ہو

ہر آدمی کا خوشی ہی اگر مقدر ہو

تو شہرِ غم زدگاں کا عجیب منظر ہو

خدا گواہ کہ خوشیاں بہت ملیں لیکن

میں کیا کروں جو اداسی ہی دل کے اندر ہو

سفر سے پہلے پرکھ لینا ہم سفر کا خلوص

پھر آگے اپنا مقدر ہے، جو مقدر ہو

نقیبِ صبح نے آواز دی تو ہے آخر

دعا کرو کہ سحر تیرگی سے بہتر ہو

کہا نہیں تھا یہ پہلے ہی تم سے میں نے سعود

کہ پاؤں اتنے ہی پھیلاؤ جتنی چادر ہو

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی