طلسم خواب سے باہر نکل کر

طلسم خواب سے باہر نکل کر
میں کیوں دیکھوں تری دنیا میں جل کر

مجھے ظرف محبت دینے والے
محبت کے مسائل بھی تو حل کر

نہین دیکھا تھا تو نے میری جانب
میں خود آئی تھی تیرے پاس چل کر

میں چوٹھی آں تے میرے سامنے بہہ
مری اکھاں چ اکھاں پا کے گل کر

میں بھلی آں تے مینو سدھی راہ لا
مینو والاں تو پھڑ کے اپنے ول کر

فرح گوندل

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں