تلاطموں کے درمیاں بھنور

تلاطموں کے درمیاں بھنور تو خود سفر میں ہے
کہ آگہی کے بھید کا سفر ، تو خود سفر میں ہے

مجاہدے مراقبے گیان کی سبیل ہیں
مقام کے حصول کا ہنر تو خود سفر میں ہے

قبائے کائنات پر چہار عنصروں کا رقص
کہ یاں ہزار سال سے بشر تو خود سفر میں ہے

گمان کی مچان پر یقین مت شکار کر
نجانے انت ہو گا کیا خبر تو خود سفر میں ہے

جو تیرگی کی داستاں اگر طویل ہے تو سن
یہیں ٹھہر سمجھ پرکھ سحر تو خود سفر میں ہے

نظر کا سب فریب ہے یہ گردشِ جہان بھی
تو کیوں نہیں سمجھ رہا ، نظر تو خود سفر میں ہے

ماوٰی سلطان

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا