تخیّل

جب ایک دوجے کو دیکھا کریں گے ہم دونوں!
دلوں میں شُکر کی آیت پڑھیں گے ہم دونوں!

بہت ہی دور کہیں خیر و شر کی دنیا سے،
کوئی جگہ ہے جہاں پر ملیں گے ہم دونوں!

تمہارے حُسن کی رعنائیوں سے مہکی ہوئی،
ہے ایک عمر جو مل کر جئیں گے ہم دونوں!

خراب حال سی دنیا کا سوچ کر اکثر،
مذاق اڑائیں گے کتنا ہنسیں گے ہم دونوں!

خمارِ یار میں بہکا کریں گے فرصت سے،
نظر سے جامِ محبت پئیں گے ہم دونوں!

بھریں گے زخم سبھی مرہمِ محبت سے،
دلِ دریدہ کو پھر سے بُنیں گے ہم دونوں!

گزاری جاۓ گی یہ زیست ہاتھ تھامے ہوۓ،
اور ایک دوجے پہ آخر مریں گے ہم دونوں!

ہمارے عشق کو عُمرِ خضر عطا ہو گی،
مثال بن کے ہمیشہ رہیں گے ہم دونوں!

 ایمان ندیم ملک

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل