تاج نے تخت نے بغاوت کی

تاج نے تخت نے بغاوت کی
جب مرے وقت نے بغاوت کی

یاد تجھ کو نہیں کیا جب بھی
قلبِ دو لخت نے بغاوت کی

دونوں سمتوں کا جب ملاپ ہوا
تیسری سمت نے بغاوت کی

مجھ کو اپنے بھی چھوڑ جائیں گے
جب مرے بخت نے بغاوت کی

ہوش مندوں کی بزم میں دیکھو
آج اک مست نے بغاوت کی

شہر والوں کو دیکھ کر عنبر
دشت میں دشت نے بغاوت کی

فرحانہ عنبر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی