سُنا کے رنج و الم مجھ کو اُلجھنوں میں نہ ڈال

سُنا کے رنج و الم مجھ کو اُلجھنوں میں نہ ڈال
تھکن کا خوف مرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال

میں اِس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں
تو کارِ وقت کے پُر ہول چکروں میں نہ ڈال

ملول دیکھ کے تجھ کو، میں رُک نہ جاؤں کہیں
خدارا ! ہجر کی شدت کو آنسوؤں میں نہ ڈال

تری بھلائی کی خاطر مجھے اُتارا گیا
مجھے لپیٹ کے کپڑوں میں، طاقچوں میں نہ ڈال

یہ ہجرتیں تو مُقدّر ہیں اور مشغلہ بھی
تو بے گھری کے حوالے سے وسوسوں میں نہ ڈال

شبیرنازش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی