جب اُس نے گفتگو ہی سے تاثیر کھینچ لی

جب اُس نے گفتگو ہی سے تاثیر کھینچ لی
میں نے بھی میل جول میں تاخیر کھینچ لی

پہلے تو میرے ہاتھ میں کشکول دے دیا
پھر یوں کِیا کہ وقت نے تصویر کھینچ لی

میرے گناہ، کیا تری رحمت سے بڑھ گئے؟
پھر کیوں مری دعاؤں سے تاثیر کھینچ لی؟

دل نے ابھی لِیا ہی تھا تازہ ہوا میں سانس
فوراً ہی تُو نے پاؤں کی زنجیر کھینچ لی

اِک اختلافِ رائے پر، اِس درجہ برہمی
کیوں دوست تو نے ہجر کی شمشیر کھینچ لی؟

شبیرنازش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی