سچ

سچ

سچ کہاں ہے

تاریخ کے اوراق میں

تاریخ سے بڑا دھوکہ تو کچھ نہیں

تاریخ تو اپنے اپنے دلالوں کے ماتحت رہی

کوئی جھوٹ کس طرح سچ میں تبدیل ہوجاتاہے

اُس کا جواب دینے کے لئے سیتا باقی نہ رہی

ہر اُس موڑ پہ بات ادھوری رہ گئی

جو اگر مکمل ہوجاتی

تو اہلِ فساد کا کاروبار کیسے چلتا

تو کیا کسی چیز کو حلال کرنے کے لئے

حرام کی آمیزش درکار ہے

کہیں ایسا تو نہیں ۔ ۔

رسول کے نام لیوا

ابوجہل کے راستے پر چل پڑے ہوں

کہیں ایسا تونہیں ۔ ۔

فلسفہَ شہادت کا درس

یزید دے رہا ہو

انجلاء ہمیش

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے