سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا

سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا
عشق سُولی پہ چڑھ گیا ہو گا

اور آخر تُو رو پڑی ہو گی
حوصلہ تو بڑا کیا ہو گا

اس نے پائل اتار لی ہو گی
دھیرے دھیرے قدم دھرا ہو گا

کس کے قدموں سے خاک مہکی ہے
راستہ اب بھی سوچتا ہو گا

کوئی تجھ سا حسین ہے ہی نہیں
آئینہ سب سے بولتا ہو گا

اس کی پنڈلی کھلی جو پانی میں
چاند تو ڈُوب ہی مرا ہو کا

افتخار شاھد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے