سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے

سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے
جو بھی درد دیکھیں تیری رہ گزر نظر آئے

اب دیے بھی وہی جلیں گے میرے آنگن میں
جو دیے تیرے ہمیں سہ پہر نظر آئے

جو مکاں بھی ملے ہم اس میں بسیرا کر لیں
شرط یہ ہے کہ بس تو جلوہ گر نظر آئے

میرے لمحات گزرتے رہے تمنا میں
لمحہ بہ لمحہ کوئی ہمسفر نظر آئے

کیوں نہ پھر ہو میری آنکھوں میں روشنی اس کی
تیری تصویر مجھے عمر بھر نظر آئے

میں انہیں شام کا منظر بھلا کیسے کہہ دوں
جو مجھے جان کر نام سحر نظر آئے

زروا رائے

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے