سوز دل، زخم جگر لے آئے

سوز دل، زخم جگر لے آئے
حادثے زاد سفر لے آئے

دست گلچیں ہے کہ شاخ گل ہے
جب اٹھے اک گل تر لے آئے

ننگ ہستی ہے سکوت ساحل
کوئی طوفاں کو ادھر لے آئے

اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ہم کو حالات کدھر لے آئے

تجھ سے مل کر بھی نہ تجھ کو پایا
غم بہ انداز دگر لے آئے

زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے

دامن لالۂ گل سے باقیؔ
مل سکے جتنے شرر لے آئے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان