کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے

کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے

تو ہی بتا کہ اسے کس طرح میں سمجھاؤں
تری شکایتیں لے کر جو میرے پاس آئے

حیات راس نہ آئی اگرچہ دل میں مرے
بدل بدل کے امیدوں کا وہ لباس آئے

کل ان کی بزم میں گزری ہے تم پہ کیا باقیؔ
کہ شاد شاد گئے اور اداس اداس آئے

باقی صدیقی

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں