ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریت
بکھر جائے گی جب عمرِ رواں کیسا لگے گا

اِسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کی
گرے گی جس گھڑی دیوارِ جاں کیسا لگے گا

بہت اترا رہے ہو دل کی بازی جیتنے پر
زیاں بعد از زیاں بعد از زیاں کیسا لگے گا

ابھی سے کیا بتائیں مرگِ مجنوں کی خبر پر
سلوکِ کوچۂ نا مہرباں کیسا لگے گا

افتخار عارف

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا