سسکتے روتے ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

سسکتے روتے ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی
وہ کیا ہوا تھی جو خاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

مرے چراغ سے پہنچی ہے آسمانوں تک
وہ روشنی جو ستاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

ہمارا عشق درختوں پہ منکشف ہوا ہے
ہماری آگ چناروں کو پیچھے چھوڑ گئی

اسے بھی شوق چرایا تھا بے حجابی کا
مری نظر بھی نظاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

پڑی ہوئی تھی جو مسجد کی سیڑھیوں کے قریب
وہ زندہ نعش مزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

اٹھا کے لائے تھے جو پانچویں کو شانوں پر
حیات پھر انھی چاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

وصالِ یار کی اک خواہشِ حریصانہ
ہزار شکر گزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

وہ اک لکیر جو کندہ تھی میرے ماتھے پر
نہ جانے کتنے شماروں کو پیچھے چھوڑ گئی

چمن اسی کے فسانوں سے ہو رہا ہے زرد
وہ غنچگی جو بہاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

ہوائے دشت میں چرچہ ہے ایک ناقہ کا
جو سارے شتر سواروں کو پیچھے چھوڑ گئی

علی صابر رضوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان