سر پہ سایہ سا دست دعا یاد ہے

سر پہ سایہ سا دست دعا یاد ہے
اپنے آنگن میں اک پیڑ تھا یاد ہے

جس میں اپنی پرندوں سے تشبیہ تھی
تم کو اسکول کی وہ دعا یاد ہے

ایسا لگتا ہے ہر امتحاں کے لیے
زندگی کو ہمارا پتہ یا دہے

میکدے میں اذان سن کے رویا بہت
اس شرابی کو دل سے خدا یاد ہے

میں پرانی حویلی کا پردہ مجھے
کچھ کہا یاد ہے کچھ سنا یاد ہے

بشیر بدر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا