سلسلہ خاص ہے نہ عام مرا

سلسلہ خاص ہے نہ عام مرا
وقت کرتا ہے احترام مرا

ایک پٹڑی نے میرا دُکھ سمجھا
اور قصہ ہوا تمام مرا

پوچھتے ہیں ہر اک مسافر سے
قافلے والے صبح و شام، مرا

گاہے گاہے پکارتا ہے دشت
قیس کے ساتھ ساتھ نام مرا

کیسے لوگوں میں وقت گزرا ہے
ایسے لوگوں میں کیا ہے کام مرا؟

کنپٹی پر رکھا ہوا پستول!!
زندگی سے ہے انتقام مرا

صحنِ مقتل مجھے سلامی دے
تیری رونق ہے، اختتام مرا

شہباز خواجہ

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

تقوی کی اعلی مثال