شکر ہے راہ ترقی میں اگر بڑھتے ہو

شکر ہے راہ ترقی میں اگر بڑھتے ہو
یہ تو بتلاؤ کہ قرآں بھی کبھی پڑھتے ہو

شیخ صاحب کا تعصب ہے جو فرماتے ہیں
اونٹ موجود ہے پھر ریل پہ کیوں چڑھتے ہو

یہ سوال ان کا ہے البتہ بہت بامعنی
کہ سمجھ بوجھ کے قرآں بھی کبھی پڑھتے ہو

دین کو سیکھ کے دنیا کے کرشمے دیکھو
مذہبی درس الف بے ہو علیگڑھ ہو

اکبر الہ آبادی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی