شکوہ نہیں خدا سے

شکوہ نہیں خدا سے اگر بال و پر نہ دے
یہ آسماں قفس سے دکھائی اگر نہ دے

میں نے یہ کب کہا انہیں دیوار ودر نہ دے
پتھّر ضمیر لوگوں کو شیشے کے گھر نہ دے

کھانے لگا ہے چہرے کو بے چہرگی کا خوف
مٹّی کو اتنی آنچ مرے کوزہ گر نہ دے

مجھ کو ڈرا رہا ہے فریبِ سکوتِ آب
رکھّوں کپہں قدم تو دکھائی بھنور نہ دے

قدموں کو کھینچتی ہوئی ہجرت کی ایک شام
اک ادھ کھُلا کواڑ کہ اذنِ سفر نہ دے

صحرا کی خاک گھر کے اندھیروں کے درمیاں
کیا کیجئے وہ چہرا دکھائی اگر نہ دے

تب تک کسی چراغ کو کہنا نہیں چراغ
جب تک کہ تجربہ نگہءِ معتبر نہ دے

( ڈاکٹر طارق قمر ) لکھنئو

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل