شہزادی!

شہزادی!
اِک روز کہیں
تیرے روپ کی سوہنی کیاری میں
میرے جادوگر ہونٹوں کا فسوں کئی لاکھ گلاب کھلا دے گا
مرے عشق چراغ کی لَو تجھ میں
سو طرح کے دِ یپ جلا دے گی
مرے لمس کا صد رنگا ریشم
تری رگ رگ میں
کئی کھربوں چم چم کرتے ہوئے ایسے جو جگنو دہکا دے گا
جو بند ہیں میری اور تری آنکھوں کے راز دریچوں میں
جو پھوٹ رہے ہیں تیرے لمس کی خوشبو سے
جو چھوٹ رہے ہیں
میرے خواب کی مٹھی سے

ایوب خاور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی